جنوبی ایشیاء میں 76 فیصد بچوں کو شدید ترین گرمی کا سامنا ہے: یونیسف

جنوبی ایشیاء میں گرمی اور ہوا میں نمی کے بلند تناسب کے پیش نظر یونیسف نے مقامی حکام، فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز اور صحت کے اہلکاروں پر زور دیا ہے کہ وہ خطرے سے دوچار بچوں اور خاندانوں کی مدد کریں۔

07 اگست 2023
In Pakistan, pregnant workers like Noor are forced to work in high temperatures to earn their living, putting the mother and baby’s life in danger.
UNICEF/UN0849918/Haro

نئی دہلی/کھٹمنڈو، 07اگست  2023:  یونیسف کے ایک تجزیے کے مطابق دنیا کے دیگر  خطوں کے مقابلے میں جنوبی ایشیاء  میں  بلند ترین درجہ ٔ حرارت  کا سامنا کرنے والے بچوں کی شرح سب سے زیادہ ہے۔

یونیسف کے اندازوں کے مطابق  جنوبی ایشیا ءمیں 18 سال سے کم عمر کے 76 فیصد، یعنی 46 کروڑ بچوں کو سخت ترین گرمی کا سامنا ہے ، جہاں سال میں 83 یا اس سے زائد  دن درجہ حرارت  35 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر  رہتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں ہر 4 میں سے 3 بچے پہلے ہی انتہائی شدید گرمی  کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ عالمی سطح پر 3 میں سے صرف ایک بچے (32 فیصد) کو اس قسم کی  صورت حال درپیش ہے۔ تجزیہ 2020 کے اعداد و شمار کی روشنی  پر کیا گیا  ہے،  جو اس وقت دستیاب تازہ ترین اعداد و شمار ہیں ۔

ان  اعداد و شمار سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ جنوبی ایشیا میں 28 فیصد بچے ہر سال 4.5 یا اس سے زیادہ ہیٹ ویوز کا سامنا کرتے ہیں جبکہ عالمی سطح پر یہ شرح 24 فیصد ہے۔

جولائی 2023 عالمی سطح پر اب تک کا گرم ترین مہینہ تھا جس نے  ایک ایسے مستقبل کے بارے میں خدشات کو جنم دیا ہے جہاں بچوں، بشمول جنوبی ایشیا میں رہنے والے بچوں کو متعدد مرتبہ  شدید ہیٹ ویو کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان خطرات   کی بڑی وجہ موسمیاتی  تبدیلی ہے۔

یونیسف کے ریجنل ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیاء ، سنجے وجے سکیرا کا کہنا تھا کہ اعداد و شما ر سے ظاہر ہوتا ہے کہ  دنیا بھر میں بلند ترین  درجہ ٔ حرارت کے باعث شدید گرمی اور ہیٹ ویوز سے  جنوبی ایشیا میں لاکھوں بچوں کی زندگیوں اور فلاح و بہبود کو شدید خطرات لاحق  ہوگئے ہیں۔ اگرچہ خطے کے ممالک کا شمار  دنیا کے گرم ترین ممالک میں  نہیں ہوتا لیکن یہاں کی گرمی عدم تحفظ کے شکار  بچوں کی زندگیوں کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ  ہم خاص طور پر شیر خوار   بچوں، چھوٹے  بچوں، غذائی قلت کے شکار بچوں اور حاملہ خواتین کے  متعلق  فکرمند ہیں کیونکہ وہ ہیٹ اسٹروک اور دیگر سنگین اثرات کا  آسان  شکار ہوسکتے ہیں۔‘‘

یونیسف کے 2021 کے چلڈرن کلائمیٹ رسک انڈیکس (سی سی آر آئی)کے مطابق، افغانستان، بنگلہ دیش، بھارت، مالدیپ اور پاکستان میں بچے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے ’شدید  خطرے‘ کی زد میں ہیں۔  

سال 2022 میں دنیا کا گرم ترین شہر قرار پانے  والے  جیکب آباد سمیت پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کے کچھ حصوں میں جون کے مہینے  میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ، جس سے 18لاکھ افراد کو صحت کے مختصر اور طویل مدتی شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔ جھلسا دینے والی گرمی کی یہ  لہر اگست 2022 میں جنوبی سندھ کے بیشتر علاقوں کو ڈبونے  والے تباہ کن سیلاب کے ایک سال سے بھی کم عرصے بعد آئی تھی ۔ جون 2023 میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 8لاکھ سے زائد  بچوں کو شدید گرمی سے  لاحق   خطرات  کا سامنا  تھا۔

برسات کے موسم میں بھی گرمی بچوں  کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ چونکہ بچے درجہ حرارت کی تبدیلیوں کے مطابق اپنے آپ کو  تیزی سے ڈھال نہیں سکتے ، لہذا ان کے اجسام تیزی سے حرارت کا اخراج نہیں کرپاتے ۔ اس سے چھوٹے بچوں میں جسم کا بلند  درجہ حرارت، دل کی  دھڑکنوں میں تیزی  ، اینٹھن، شدید سر درد، الجھن، اعضاء کا مفلوج ہونا، پانی کی کمی، بیہوشی اور کوما جیسی علامات اور بیماریاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ نوزائیدہ بچوں میں ذہنی نشوونما  کے علاوہ  بڑھوتری میں خرابی کے مسائل ہوسکتے ہیں جن میں    اعصابی  اور دل کی بیماریاں شامل ہیں۔شدید گرمی کی شکار  حاملہ خواتین کو قبل از وقت  زچگی کی علامات، بلند فشارِ خون ، دورے پڑنا ، ہائی بلڈ پریشر،بچے کی  قبل از وقت پیدائش اور بچے کی مردہ حالت میں پیدائش  جیسے خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے ۔

چھوٹے بچوں  کے جسمانی درجہ ٔ حرارت کو کم کرنے کے لیے  برف کے تھیلے، پنکھے کی ہوا  یا   پانی کی پھوار کا استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ قدرے بڑے بچوں کو محفوظ طریقے سے ٹھنڈے  پانی میں   ڈبوکر  جسم کو ٹھنڈا کیا جاسکتا ہے۔

تعلیم، آگاہی اور تیاری اس بحران سے نمٹنے کے موثر  طریقے ہیں۔ شدید گرمی  کے دوران یونیسف فرنٹ لائن ورکرز، والدین، خاندانوں،صحت کی دیکھ بھال کرنے والوں اور مقامی حکام پر زور دیتا ہے کہ وہ درج ذیل اقدامات کے ذریعے  بچوں کو گرمی سے محفوظ رکھیں:

·        گرمی کے خطرات  سے آگاہ رہیں اور اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کی حفاظت کریں۔ احتیاطی تدابیر اختیار کریں ، گرمی کے خطرے کو پہچانیں اور خطرے سے نمٹنے کیلئے  ضروری  اقدامات کے متعلق جانیں۔

·        علامات کی شناخت کریں۔ گرمی سے ہونے والی  مختلف بیماریوں کی علامات کو پہچانیں جو دیکھ بھال کرنے والوں، برادریوں اور فرنٹ لائن کارکنوں کے علم میں ہونی چاہئیں۔

·        حفاظت کے لئے فوری طور پر اقدامات  کریں۔ ابتدائی طبی امداد  کے طریقے سیکھیں جو دیکھ بھال کرنے والوں اور فرنٹ لائن کارکنوں کو فوری طور پر  جسم کی حرارت کو دوبارہ متوازن کرنے کے لئے چاہئیں۔ اور

·        ہسپتال یا مرکزِ صحت لے کر جائیں۔ فرنٹ لائن کارکنوں، خاندانوں اور دیکھ بھال کرنے والوں کو لو اور گرمی  لگنے  کی علامات، خاص طور پر ہیٹ اسٹروک کی علامات کو فوری طور پر پہچاننا چاہیے اور متاثرہ لوگوں کو صحت مرکز  تک لے جانے میں مدد کرنا چاہیے۔

 بالآخر، موسمیاتی شدت کی بھاری قیمت سب سے زیادہ  عدم تحفظ کے شکار  بچوں، نوعمرافراد  اور خواتین کو ہی    چکانی پڑتی ہے۔

وجے سیکرا  کا کہنا تھا ، ’’چھوٹے بچے گرمی کی شدت کو برداشت نہیں کر سکتے۔ اگر ہم ابھی اقدامات  نہیں اُٹھائیں گے  تو یہ بے قصور  بچے  آنے والے   برسوں میں اس سے  زیادہ مرتبہ  اور زیادہ شدید ہیٹ ویو کا    سامنا کرتے رہیں گے۔‘‘  ختم شد۔

معلومات  برائے مدیر ان  گرامی

تصاویر اور بی رول یہاں ڈاؤن لوڈ کریں ۔ پاکستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے موسمیاتی تبدیلی کے فرنٹ لائن پر تین ماؤں کے بارے میں خصوصی مواد یہاں سے حاصل  کریں۔

علاقائی تخمینے 2020 کے اعداد و شمار کے تجزیے پر مبنی ہیں، جو اس وقت دستیاب تازہ ترین اعداد و شمار ہیں ۔

ہیٹ ویو: 3 دن یا اس سے زیادہ کی کوئی بھی مدت جب ہر دن زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت مقامی 15 دن کے اوسط کے سرفہرست  10 فیصد میں ہوتا ہے۔

ہائی ہیٹ ویو فریکوئنسی: جہاں ہر سال اوسطا 4.5 یا اس سے زیادہ ہیٹ ویو ہوتی ہے۔

انتہائی بلند  درجہ حرارت: جہاں، اوسطاً سال میں 83.54 یا اس سے زیادہ دن درجہ حرارت  35 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ رہتا ہے۔  

ہیٹ ویو کے  عالمی سطح پر بچوں پر اثرات کے  بارے میں یہاں پڑھیں: https://www.unicef.org/reports/coldest-year-rest-of-their-lives-children-heatwaves

میڈیا رابطے

Sabrina Sidhu
Communication Specialist (Media)
UNICEF South Asia
ٹیلیفون: +91 9384030106
ای میل: ssidhu@unicef.org

About UNICEF

UNICEF promotes the rights and wellbeing of every child, in everything we do. Together with our partners, we work in 190 countries and territories to translate that commitment into practical action, focusing special effort on reaching the most vulnerable and excluded children, to the benefit of all children, everywhere.

For more information about UNICEF and its work for children, visit www.unicef.org

Follow UNICEF on Twitter, Instagram and Facebook