پاکستان کے حالیہ تباہ کن سیلاب میں 500 سے زائد بچوں کی جانیں چلی گئیں

صوبہ سندھ کے اپنے دورے کے بعد یونیسف پاکستان کے سربراہ عبداللہ فاضل کے تاثرات

16 ستمبر 2022

اسلام آباد۔ 16ستمبر 2022 : ’’حکومت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے اب تک کم از کم  528  بچوں کی جانیں لے لی ہیں ۔ ان میں سے ہر ایک موت ایسا  المیہ ہے جسے ٹالا جاسکتا تھا۔ ‘‘ 

"افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اگر امدادی کارروائیوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ نہ کیا گیا تو بہت سے مزید بچے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ ‘‘ 

’’ میں گزشتہ دو روز سے سندھ کے  سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہوں۔ یہاں متاثرہ خاندانوں کے لئے صورتحال مایوس کن  ہے اور میں نے جو کہانیاں سنی ہیں وہ نااُمیدی  کی تصویر پیش کرتی ہیں۔ ہمیں ہر طرف غذائی کمی کا شکار بچے نظر آرہے ہیں ، جو اسہال ، ملیریا، ڈینگی بخار اور جلد کی تکلیف دہ بیماریوں سے لڑ رہے ہیں ۔ بہت سی مائیں خون کی کمی اور غذائی بحران  کا شکار ہیں اور ان کے   بچوں کے وزن بہت کم  ہیں۔ مائیں تھک چکی ہیں یا بیمار ہیں اور دودھ پلانے سے قاصر ہیں۔ لاکھوں خاندان اپنے گھروں سے بے دخل  ہو چکے ہیں، اب سخت دھوپ سے اپنے آپ  کو بچانے کے لئے ان کے پاس سوائے چند  چیتھڑوں   کے کچھ نہیں ہے ، جبکہ  کچھ علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرجاتا ہے۔ ‘‘ 

"بہت سے خاندان سٹرکوں کے کنارے اونچی ڈھلوانوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں، جس سے بچوں کو مزید خطرے کا سامنا ہے ،کیونکہ نیچے زمین کے   وسیع رقبے پر تاحدِ نظر پانی کھڑا ہے ۔ اس کے باعث سانپوں، بچھوؤں اور مچھروں سے اضافی خطرات  بھی موجود ہیں۔ ‘‘ 

ایک اندازے کے مطابق اس شدید سیلاب سے ایک کروڑ 60 لاکھ بچے متاثر ہوئے ہیں اور کم از کم 34 لاکھ لڑکیوں اور لڑکوں کو فوری طور پر زندگی بچانے کے لیے  مدد کی ضرورت ہے۔ چھوٹے بچے اپنے اہل خانہ کے ساتھ کھلی جگہوں پررہ رہے ہیں، ان کے پاس پینے کا پانی  ہے، نہ خوراک اور نہ ہی آمدنی کا کوئی وسیلہ ہے، جس کی وجہ سے یہ لوگ  سیلاب سے متعلق نئے بے شمار  خطرات کا سامنا کررہے ہیں جن میں   تباہ شدہ عمارتیں، سیلاب کے پانی میں ڈوبنا اور سانپوں  کا شکار بننے کے خطرات  شامل ہیں۔ بچے جس بنیادی ڈھانچے پر  انحصار کرتے تھے ، جس میں ہزاروں اسکول، پانی کا نظام اور صحت کی سہولیات شامل تھیں، اسے نقصان پہنچ چکا ہے یا مکمل تباہ ہوچکاہے۔‘‘ 

’’ اگرچہ سیلاب میں اپنے زندگیاں گنو ادینے والے بچوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے لیکن یونیسف متاثرہ بچوں اور خاندانوں کی مدد  کرنے، انہیں پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں، غذائی قلت اور تحفظ کے خطرات سے بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ ‘‘ 

’’ریسکیو اور امدادی کارروائیاں کرنا اب بھی انتہائی مشکل ہے - بہت سے خاندان اب بھی سیلاب کے پانی کی وجہ سے رابطے سے کٹے ہوئے  ہیں - پھر بھی مجھے یہ دیکھ کر فخر ہوا کہ یونیسف، حکومت اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے اور اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ متاثرہ بچوں کو جلد از جلد ضروری  مدد ملے۔ اس کے باوجود یہ واضح ہے کہ ضروریات بہت زیادہ ہیں اور اس چیلنج کا موثر جواب دینا چاہیے۔ یونیسف کی جانب سے  اہم طبی اور انسانی رسد کی  تیسری کھیپ  یعنی اضافی 36 میٹرک ٹن  پاکستان کے راستے میں ہے اور توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان پہنچ جائے گی۔‘‘   

’’ اپنے عزیزوں، گھروں اور اپنی بہترین ملکیتی چیزوں کو کھودینے سے بہت سے بچوں کو صدمے اور پریشانی کا سامنا ہے۔ یونیسف پہلے ہی صدمے سے دوچار بچوں اور خواتین کو نفسیاتی خدمات فراہم کر رہا ہے۔ سیلاب میں بے گھر ہونے والے بچوں نے ہمیں بتایا کہ وہ خوفزدہ  اور دُکھی  ہیں، لیکن ان کے پاس کوئی مصروفیت بھی نہیں ہے ، جس سے وہ اپنا وقت گزار سکیں۔ ہم نے بچوں کی زندگیوں میں معمول کا احساس واپس لانے، صدمے سے نمٹنے میں ان کی مدد کرنے اور سیکھنے کے عمل  کو دوبارہ شروع کرنے میں مدد دینے کے لئے سیکھنے کی  عارضی جگہیں قائم کی ہیں۔ ‘‘ 

’’پاکستان میں لڑکیاں اور لڑکے  اس ماحولیاتی تباہی کی قیمت چُکا رہے ہیں جس میں ان کا کوئی قصور نہیں ہے۔ آج ہم ان کی فوری ضروریات پوری کر رہے ہیں لیکن  ہمیں آنے والے وقتوں  اور  لاکھوں خطرے سے دوچار  لڑکوں اور لڑکیوں کی زندگیوں کی تعمیر نو کی ضرورت پر بھی غور کرنا ہوگا تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ محفوظ، صحت مند، تربیت یافتہ، اور اپنے مستقبل کے لیے پوری طرح سے تیار ہیں۔‘‘

میڈیا رابطے

Joe English
Communication Specialist
UNICEF New York
ٹیلیفون: +1 917 893 0692
ای میل: [email protected]
Catherine Weibel
Chief, Advocacy and Communications
UNICEF Pakistan
ٹیلیفون: +92-300-500-2595
ٹیلیفون: +92-51-209-7810
ای میل: [email protected]

About UNICEF

UNICEF promotes the rights and wellbeing of every child, in everything we do. Together with our partners, we work in 190 countries and territories to translate that commitment into practical action, focusing special effort on reaching the most vulnerable and excluded children, to the benefit of all children, everywhere.

For more information about UNICEF and its work for children, visit www.unicef.org

Follow UNICEF on Twitter, Instagram and Facebook