مشکلات اور مسائل کے باوجود، یونیسف ان ممالک کو ضروری سامان فراہم کررہا ہے جہاں کووِڈ- 19 کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

29 مارچ 2020
unicef Urdu logo
UNICEF

کوپن ہیگن/ نیویارک، 27 مارچ 2020 کووِڈ- 19 کا مرض ایک عالمی وبا کے طور پر مسلسل پھیلتا جارہا ہے اور یونیسف ضروری سازوسامان کے حصول کے بعد اسے متاثرہ ممالک تک پہنچانے میں مصروف ہے۔ اس ضروری سامان میں ذاتی تحفظ کے لئے درکار آلات (پی پی ای) بھی شامل ہیں جو متاثرہ ممالک میں فراہم کئے جارہے ہیں۔

یونیسف اس وقت دنیا بھر میں کم و بیش 1,000 سامان فراہم کرنے والوں اور صنعتی قائدین کے ساتھ کام کررہا ہے اور عالمی منڈیوں کو درپیش مشکلات کے باوجود مسائل کا حل تلاش کرنے میں مصروف ہے۔ اس وقت نہ صرف دنیا بھر کی منڈیوں کو انتہائی مشکل صورتِ حال بلکہ  جارہانہ طلب اور برآمدات پر پابندیوں کا بھی سامنا ہے۔ اس کے باوجود یونیسف اپریل سے جون تک سامان فراہم کرنے والوں سے اہم آلات اور سامان کی دستیابی یقینی بنانے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ اس سامان میں 26.9 ملین سرجیکل ماسک، 4.8 ملین ریسپائریٹرز ، 6 ملین ،حفاظتی لباس، 7.1 ملین سرجیکل گاؤن، 1.5 ملین حفاظتی چشمے اور 29,000 انفراریڈ تھرما میٹر  بھی شامل ہیں۔ 

کوپن ہیگن میں یونیسف کے سپلائی ڈویژن کی ڈائریکٹر ایٹلیوا کاڈیلی نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے   کہا:’’ اگرچہ وبا پھیلنے کی رفتار بہت زیادہ ہے جو کہ ہمارے لئے مسلسل مشکلات اور مسائل کا باعث بن رہی ہے۔ اس کے باوجود ہم ہر ممکن کوشش کررہے ہیں کہ یونیسف ضروری  سامان ہر اُس ملک تک پہنچائے جہاں اس سامان کی اشد ضرورت ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ "اس موقع پر طبی عملے کی حفاظت بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔ طبی عملہ   اس وقت دنیا بھر میں فرنٹ لائن ہیروز کا کردار ادا کررہے ہیں جو اس غیر معمولی نوعیت کے عالمی بحران کے دنوں میں متاثرہ خاندانوں اور بچوں کی انتھک دیکھ بھال میں مصروف ہیں۔"

اس وبا کے آغاز سے لے کر اب تک ، یونیسف وبا سے متاثر ہونے والے ممالک میں  4.25 ملین دستانے، 573,300 سرجیکل ماسک، 98,931 این 95 ریسپائریٹرز یعنی سانس لینے کے آلات ، 156,557 گاؤن اور 12,750 گوگلز یعنی حفاظتی چشمے فراہم کر چکا ہے۔

یونیسف کی حال ہی میں فراہم کردہ  سامانکی کھیپ میں یہ ضروری آلات شامل تھے:

  • یونیسف نے 2 ملین ڈالر کے لگ بھگ مالیت کا طبی  ساماناور ذاتی تحفظ کے آلات چین میں ہیوبی کے صوبے میں فراہم کیے ہیں تاکہ چینی حکومت کووِڈ- 19 کی وبا کا مقابلہ کرسکے۔ اس  سامانمیں 150 دل کی ریشہ بندی ختم کرنے کے آلات (ڈی فبرلیٹر)، 200 الیکٹروکارڈیوگرام مانیٹرز، 35 سفری الٹراساؤنڈ مشینیں، 100 فیوژن پمپ، 40,000 این 95 ماسک، 20,000 گاؤن اور 13,000 حفاظتی چشمے شامل ہیں۔
  • 1 مارچ سے لے کر اس وقت تک، 8 میٹرک ٹن ضروری سازوسامان سے لدے تین جہاز کامیابی سے ایران کے شہر تہران میں اتر چکے ہیں۔ ایران کو فراہم کردہ سامان میں ذاتی تحفظ کے لئے درکار آلات (پی پی ای) بھی شامل تھے۔ اس ضروری سازوسامان کو چھ متاثرہ صوبوں کے ہسپتالوں اور صحت کی سہولیات فراہم کرنے والے دیگر مراکز میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ آئندہ چند روز میں 18.5 ٹن ذاتی تحفظ کے مزید آلات کا ایران کو فراہم کیا جانا متوقع ہے۔
  • اس ہفتے یونیسف 14 میٹرک ٹن ذاتی تحفظ کے آلات پاکستان کو کامیابی سے فراہم کرچکا ہے۔ یہ آلات پاکستان کے طبی عملے اور فرنٹ لائن ورکرز کو تحفظ فراہم کریں گے اور اس سامان میں 114,300 سرجیکل ماسک، 12,681 گاؤن اور 449,868 دستانے شامل ہیں۔

ان کے علاوہ یونیسف بہت جلد  ذاتی تحفظ کے آلات عوامی جمہوریہ کوریا (شمالی کوریا)، اریٹیریا، انڈونیشیا، فلسطین، اور وینزویلا کو فراہم کرنے والا ہے۔ اس کے علاوہ ادارہ جنوبی سوڈان، ڈیموکریٹک جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی)، اریٹیریا، یوکرین اور افغانستان کو آکسیجن مرتکز کرنے والے آلات (کنسنٹریٹر) بھی فراہم کرنے جارہا ہے۔

اگرچہ یورپ بھی کووِڈ- 19 کے حملے سے بُری طرح متاثر ہوا ہے، اس کے باوجود کوپن ہیگن میں یونیسف کا سپلائی ڈویژن، جو کہ دنیا کا سب سے بڑا گودام ہے، پوری طرح کام کرنے میں مصروف ہے۔ اس گودام میں کام کرنے والے ہفتے کے ساتوں دن مختلف شفٹوں میں  کام  کرتے ہوئے حفاظتی کٹس کی تیاری ممکن بنارہے ہیں۔ یہاں تیار کئے جانے والے سازوسامان میں صحت، پانی، حفظانِ صحت، صحت و صفائی، بچوں کی ابتدائی نگہداشت اور تعلیمی اشیا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس وقت مختلف ڈویژنز میں کام کرنے والی ٹیمیں کووِڈ- 19 کے مقابلے کے لئے درکار  سامانتک رسائی حاصل کرنے کے لئے دن رات کام کررہی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ہنگامی حالات سے دوچار یمن، شام اور ڈنمارک میں جاری پروگراموں کو بھی مکمل مدد فراہم کر رکھی ہے۔

دنیا بھر میں کووِڈ- 19 کی وبا کے پھیلاؤ میں تیزی آرہی ہے جس کی وجہ سے منڈیوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور اس کے نتیجے میں یونیسف کے سپلائی کے کام میں شدید مشکلات پیش آرہی ہیں۔

اس وقت بین الاقوامی نقل و حمل پر پابندیاں روز بروز بڑھ رہی ہیں جس کی وجہ سے عالمی سطح پر  سامانکی نقل و حمل کا عمل بُری طرح متاثر ہورہا ہے۔ رسد کے معاملات میں دشواری پیش آرہی ہے اور یہ امر ضروری سامان کے حصول میں تاخیر کا باعث بن رہا ہے۔ اس کے علاوہ انسانی زندگی بچانے،  انسان دوست اور ترقیاتی پروگرامز کے لئے درکار سازوسامان کی قیمتوں میں اضافہ ہوچکا ہے۔

ان مشکلات پر قابو پانے کے لئے یونیسف عالمی کارگو ایئرکرافٹ کی گنجائش اور کوریج کے امور پر نظر ثانی کررہا ہے۔ اس مقصد کے لئے ادارہ اپنے دنیا بھر کے دفاتر، سازوسامان فراہم کرنے والے شراکت داروں اور تنظیموں کے ساتھ مل کر شپمنٹ کی ترجیحات اور ہنگامی نوعیت کے ساز و سامان کی فراہمی کے سلسلے میں درکار مربوط لائحہ عمل مرتب کرنے میں بھی مصروف ہے۔

یونیسف اپنے اہم سٹاکس کو غیر مرکزی بنا کر کچھ احتیاطی اقدامات بھی اٹھا چکا ہے۔ اس سلسلے میں اس نے ہنگامی سازو سامان، اور دیگر ضروری ریلیف سپلائز کوپن ہیگن سے دبئی، پاناما اور گھانا کے دارلحکومت آکرا  میں موجود مراکز میں روانہ کردی ہیں اور ادارہ مشرقی و جنوبی افریقہ کے ممالک کے لئے بھی ایسے ہی اقدامات کرنے جارہا ہے۔

بدھ کے روز یونیسف نے کووِڈ – 19 کی عالمی وبا کی  وجہ سے پیدا ہونے والی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لئے 651.6 ملین امریکی ڈالرز امداد کی بھی درخواست کی ہے۔

###

ایڈیٹرز کے لئے نوٹ:

ملٹی میڈیا مواد کے لئے یہ لنک وزٹ کریں۔  https://weshare.unicef.org/Package/2AM408W4FV9P

میڈیا رابطے

جو انگلش
یونیسف نیویارک
ٹیلیفون: +1 917 893 0692
ای میل: jenglish@unicef.org

About UNICEF

UNICEF promotes the rights and wellbeing of every child, in everything we do. Together with our partners, we work in 190 countries and territories to translate that commitment into practical action, focusing special effort on reaching the most vulnerable and excluded children, to the benefit of all children, everywhere.

For more information about UNICEF and its work for children, visit www.unicef.org

Follow UNICEF on Twitter, Instagram and Facebook