Media centre

Press Releases

Photo essays

Video and audio

Contact the media team

 

ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست میں مینا ریڈیو کا افتتاح ہندی زبان میں ہوا

                                                                                                                                          منجانب انجیلا واکر                                  

لکھنؤ، اتر پردیش، انڈیا، 15 مارچ 2010 – دنیا کی سب سے لمبی پہاڑ کی چوٹی کو دو بار چڑھنے والے کوہ پیما سنتوش یادو نو جوان لڑکیوں کو اسکول میں ٹہرنے کے لئے اکساتے ہوئے مینا ریڈیو، ایک تفریحی تعلیم ریڈیو پروگرام کا افتتاح کرنے کے لئے دستیاب تھی تاکہ وہ اپنے اپنے خوابوں کی تکمیل کر سکیں۔ 

"میں بھی آّپ ہی کی طرح ایک چھوٹے گاؤں سے بہت ساری مشکلات کے ساتھ تھی۔ میری خواہش پڑھائی کرنے کی تھی،" اتر پردیش کی باشندہ نے نو جوان لوگوں، ان کے والدین اور اساتذہ سے بھرے ہوئے ایک آڈیٹوریم کو بتایا۔ میرا تعلق ایک بہت ہی روایتی پس منظر سے، ایک روایتی خاندان سے ہے۔۔۔۔ ایوریسٹ کو چڑھنے کے مقابلے میں ان ثقافتی رواجوں اور دستوروں سے گزرنا میرے لئے زیادہ دشوار تھا۔"

نوجوان یادو ہریانا کے ایک چھوٹے سے اسکول میں جاتی تھی جہاں برسات میں کچے راستے کیچڑ میں تبدیل ہو جاتے تھے۔ 14 سال کی عمر میں اس پر شادی کرنے کا دباؤ پڑا تھا، لیکن ان کی والدہ اس سلسلے میں بحث و مباحثہ کیا کرتی تھیں کہ ابھی یہ بہت ہی جوان ہے۔ انھوں نے اقتصادیات میں اعلی کامیابی حاصل کی اور دھیرے دھیرے اپنی پڑھائی کو کوہ پیمائی کے اسکول میں جاری رکھا۔

انھوں نے پوری طرح متوجہ مجمع کو بتایا کہ "سبھی لڑکیوں کو تعلیم کا یکساں موقع حاصل ہونا چاہئے۔" "ہمیں ایک اچھی زندگی گزارنی ہے، صرف زندہ نہيں رہنا ہے۔"

یادو کی طرح میینا نو جوان لڑکیوں کے لئے رول موڈل ہے۔ یہ تعصب سے بھری دنیا میں رہتی ہے جہاں لڑکوں کو اسکول بھیجا جاتا ہے اور انہيں کافی مقدار میں کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔ لڑکیاں گھروں میں رہتی ہیں، مویشی پر مائل رہتی ہيں، پانی لاتی ہیں اور گھر کے دوسرے کام کاج کرتی ہیں۔ جب مینا کا چھوٹا بھائی راجو اسکول جاتا ہے تو مینا کے والد اسے گھر پر ہی رہنے کو کہتے ہیں۔ لیکن دھیرے دھیرے اس نے اپنے گاؤں کے معاشرے کی تائید حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے اور اپنے گھر والوں کے اسے اسکول نہ بھیجنے کے نظریے کو بدل دیتی ہے۔

یونیسیف کے یو پی آفیس کے چیف جناب عادل خرد کہتے ہيں کہ "یہ 9 سالہ سرگرم لڑکی دس سے زیادہ سالوں سے بے زبان کی آواز تھی۔ اب یہ پڑھائی کرنا چاہتی ہے۔ یہ ایک ایسے معاشرے سے سوالات پوچھتی ہے جو لڑکیوں کے لئے منصفانہ نہيں ہے۔ یہ لڑکی ایک رول موڈل ہے اور مثبت و مشارکت کے انداز میں مسئلوں کو حل کرتی ہے۔" "انڈیا میں ہر لڑکی کو مینا کی جوش و خروش کے ساتھ تقلید کرتے اور انہيں صحت یابی، پر اعتمادی اور اجازت یافتہ ہو کر بڑھتے ہوئے دیکھنے سے زیادہ ہمیں کسی اور چیز سے خوشی نہيں ملے گی۔"

مینا ریڈیو کو پہلی بار اتر پردیش کے اندر ہندی زبان میں نشر کیا جا رہا ہے، اتر پردیش ملک کی بہت ہی بڑی ریاست ہے جس کی آبادی 191 ملین ہے جو برازیل کی آبادی سے ملتی جلتی ہے۔ ہر 15 منٹ کے پروگرام میں ایک کہانی، گانا اور گیم (کھیل) ہوتا ہے جسے اسکول کے بچوں کو سوچنے پر ابھارتے ہوئے ان کے دل بہلانے کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔ نشر کے بعد طلبہ کے مباحثات تعلیم، غذائیت، حفظان صحت کے علم، صحت گاری، صحت، بچوں کی شادی اور بچوں کی مزدوری کے پیغامات پر مزید تقویت پہنچاتے ہيں۔

آئی کے ای اے سوشل انیشی ایٹیو کے فیاضانہ تعاون سے چلنے والا مینا یونیسیف، حکومت اترپردیش اور آل انڈیا ریڈیو کے ما بین ایک شراکت ہے تاکہ بچوں کے حقوق، جنس اکویٹی اور بچوں کے دوستانہ اسکولوں کو ترقی دیا جا سکے۔ فی الحال ریڈیو پروگرام کے ایک سو ساٹھ ایپیسوڈ تیار کئے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ریاست میں36,000  مینا منچ اور فورم ہیں جہاں لڑکیوں کی تعلیم اور بچوں کی شادی کے خلاف لڑائي کی سماجی سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں۔

حکومت کی طرف سے فراہم کردہ ریڈیو سیٹ پر شائع کرنے کے لئے طلبہ پیر سے سنیچر تک دو پہر میں ریڈیو سیٹ کو مطلوبہ سگنل سے ملاتے ہيں۔ ساتھ ہی حکومت نے اساتذہ کو اس بات کی ٹریننگ دے رکھی ہے کہ مینا کو ٹیچنگ ایڈ کے طور پر کیسے استعمال کرنا ہے اور حکومت نے اسکول کے لئے ایک عمومی ہدایت بھی جاری کر رکھی ہے تاکہ بتائے ہوئے وقت میں ریڈیو سننے کی سہولت فراہم کیا جا سکے۔۔ پائلٹ پروگرام کا افتتاح خواتین کے بین الاقوامی دن 8 مارچ کو لکھنؤ اور للت پور ضلع میں کیا گیا۔ یہ پروگرام مزید سات ضلعوں میں رو بہ عمل کیا جائے گا جس کی شروعات جولائی سے ہوگی۔

مینا پورے علاقے میں سالوں سے ایک مشہور کارٹون کردار کی حیثیت سے موجود ہے اور سری لنکا، بنگلا دیش، پاکستان اور انڈیا میں تسلیم شدہ ہے۔ ریڈیو پروگرام کا ہدف 11 سے 14 سال کے نو جوان لوگ ہوتے ہیں، جو ایک ایسی عمر ہوا کرتی ہے جس میں یہ لوگ اسکول چھوڑنے کی طرف مائل ہوتے ہيں۔ اتر پردیش میں، پرائمری اسکول سے نکلنے کی شرح 25 فی صد ہے، البتہ بالائی پرائمری اسکول میں بڑھ کر 55 فی صد ہو گئی ہے، جن میں لڑکوں کے مقابلہ میں لڑکیاں زیادہ اسکول چھوڑتی ہیں۔

اتر پردیش کے شعبۂ تعلیم کے ڈبٹی ڈائرکٹر للیتا  پردیپ نے بتایا کہ "یہ ایک بہت ہی ہیجان خیز شراکت ہے۔ گزشتہ 20 سالوں سے، اتر پردیش نے مینا کو اس طرح سے اپنا رکھا ہے جیسے کہ ہماری اپنی بچی ہو۔ اسکول کی لڑکیاں، والدین اور اساتذہ مینا کو قبول کر رہے ہیں۔" "ہندی زبان میں بات کرنا اس بات کی یقین دہانی کراتا ہے کہ یہ والدین اور معاشرے تک پہنچتے ہیں اور انہيں اس بات کی طرف مائل کرتے ہيں کہ وہ پیغام کو بالکل صحیح اور واضح انداز میں ذہن نشین کریں۔ ریڈیو بہت ہی با کفایت اور کم خرچ پر زیادہ کار گزاری دکھانے والا ہے اور ہر جگہ دستیاب ہے۔"

مینا کے مثبت برتاؤ والے پیغامات دل کو لگتے ہيں، کیوں کہ انہيں مزاحیہ انداز میں پیش کیا جاتا ہے اور اس طریقے کو قابل پسند بناتے ہيں جو بچوں، ان کے والدین اور اساتذہ کو لبھاتا ہے۔ طلبہ اپنے آپ کی شناخت مینا اور اس کے دوستوں میں اور اس گاؤں اور اسکولی زندگی میں کرتے ہيں جس میں وہ رہتی ہے۔

پردیپ کہتی ہیں "سبھی لڑکیوں کی شناخت مینا سے ہوتی ہے۔ یہ لوگ جوش میں بھرے ہوئے ہوتے ہيں۔ یہ مینا کی طرح ہونا چاہتے ہیں، مینا کی طرح برتاؤ کرنا چاہتے ہيں"۔ "میں نے لڑکوں کو بھی مینا میں دلچسپی لیتے ہوئے دیکھا ہے۔ یہ لڑکے اور لڑکی دونوں کے لئے ایک سبق ہے۔"

مینا ریڈیو نے مینا کے چاہنے والوں کی زندگیوں کو کیسے چھوا اس بات کی وضاحت وہ اپنی ہی زبان میں کیسے کرتے ہيں، دیکھئے۔

                                                                                                                                                          لکشمی، 12، کالوری                      

12 سالہ لکشمی کا تعلق کالوری گاؤں سے ہے جو لکھنؤ سے 22 کیلو میٹر کی دوری پر واقع ہے جہاں وہ اپنے والدین، تین بھائیوں اور دو بہنوں کے ساتھ رہتی ہے۔ اس کی کالی بڑی آنکھوں میں کاجل کی لکیریں بنی ہوئی ہیں اور کان کے آویزے اس کے کانوں سے چمک رہے ہيں جو دو لمبے جھالروں کے پیچھے سے جھانک رہے ہیں۔ وہ اپنے ہاتھوں سے خاموش اعتماد کا مظاہرہ کرتی ہے جو اس کے اسکول کے اس بندھے ہوئے گلوبند لگا زنانہ پیش بند کے اوپر اس کی گود میں بندھے ہوئے ہیں جسے کئی بار رفو کیا جا چکا ہے۔

لکشمی نے صحت کے لئے حفظان صحت کے علم کی اہمیت کو مینا سے جان لیا ہے ساتھ ہی یہ بھی سیکھ لیا ہے کہ آپ کو ہمیشہ اپنے ہاتھ صابن یا راکھ سے دھونا چاہئے۔

لکشمی کہتی ہے "میرے نزدیک مینا کی حیثیت ان بچوں کی سی ہے جو ہمارے آس پاس مکمل خاندان کے ساتھ رہتے ہيں"۔ "میں مینا کے طرز تکلم کو پسند کرتی ہوں۔ وہ بہت ہی عمدہ طریقے سے وضاحت کرتی ہے۔"

لکشمی بڑی ہو کر استاذ بننا چاہتی ہے۔ "جیسا کہ میں نے سیکھا ہے، میں اپنے گاؤں کے بچوں کے لئے ویسا ہی کرنا چاہتی ہوں۔"

لیکن مینا صرف بچوں کے لئے نہيں ہے۔ نو جوان لوگوں کو بھی اس کے بارے میں بہت کچھ جاننا ہے خاص طور سے اپنے لڑکیوں کو اسکول میں رکھنے کے سلسلے میں۔

لکشمی کہتی ہے "میرے والدین بھی مینا سے سیکھتے ہيں، لہذا میرے اساتذہ اور ہماری ایک جماعت اسکول میں سنتے ہيں۔ "بالغوں کو بتانے کے لئے سب سے اہم چیز یہ ہے کہ لڑکیاں پڑھائی کریں۔ انہيں افسوس ہوا کرتا ہے کہ لڑکی کو اسکول بھیجنا باعث پریشانی ہے۔ اب وہ سمجھتے ہیں کہ اگر لڑکیاں پڑھائی کرتی ہیں تو وہ کچھ بن سکتی ہیں۔ مجھے پڑھنا پسند ہے اور ایک دن میں اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکتی ہوں۔"

                                                                                                                                                  عادل، 15، امیٹھیا سیلم پور

عادل بڑے ہو کر پولیس بننا چاہتا ہے اور اپنے گاؤں کے اندر نظم و ضبط پیدا کرنا چاہتا ہے۔

15 سالہ سنجیدہ لڑکے کا کہنا ہے کہ "میرے گاؤں کا ماحول خراب ہے۔ یہاں شراب کی لت، چوری چکاری، جوے بازی جیسی خرابیاں پائی جاتی ہیں جنہیں لڑکے اسکول جاتے ہوئے راستے میں دیکھتے ہیں۔" "میں نے شراب کی لت کی وجہ سے عورتوں کو پٹتے ہوئے دیکھا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ بار سے باہر نکلتے ہيں تو وہ رشوت دے کر چھٹکارا حاصل کرتے ہيں۔

مینا جیسے پروگرام پنچایتی ذمہ داری بتاتے ہيں جو ان سماجی مسائل میں سے بعض کی طرف توجہ کر سکتی ہے۔

انیل کہتا ہے کہ "مینا ان 15 منٹوں میں تھوڑی مدد کر سکتی ہے۔ ادھر ادھر گھومنے پھرنے والے لڑکے گھر جائیں گے اور اچھی طرح سمجھیں گے کہ وہ جو کر رہے ہيں وہ غلط ہے۔" "میں ان بالغوں کے بارے میں بہت کچھ نہيں کہ سکتا ہوں جو پہلے سے ہی بری چیزوں کے عادی ہیں۔ لیکن مینا بچوں کے لئے ایک امید ہے۔"

طلبہ مینا کو پسند ہيں، کیوں کہ وہ مزاحیہ ہے اور ہمیشہ ہر ایک کی مدد کرتی ہے۔ سنجیدہ مسائل کے اوپر بھی کہانیوں کو روشنی اور مزاحیہ انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ چھٹے اور ساتویں کلاس کا ہر لڑکا مینا کو سنتا ہے جو ان پیغامات کو تقویت بخشتی ہے کہ لڑکیاں اتنی ہی اچھی ہوتی ہیں جتنے کہ لڑکے۔ "میں ہمیشہ سمجھتا تھا کہ لڑکیاں کچھ بھی کر سکتی ہیں لیکن مینا کو سننے کے بعد میرا اعتماد اور بھی بڑھ گیا کہ لڑکیاں اور لڑکے برابر ہیں۔"

مینا نے نہ صرف طلبہ کی قوت ادراک میں تبدیلی لائی ہے بلکہ بالغوں اور معاشرے کے خیالات کو تبدیل کر دیا ہے۔

عادل کا کہنا ہے کہ "خود میرے والد اور میرے دوست بدل گئے۔" "ہم عورتوں کو خراب روشنی میں دیکھتے ہيں۔ ہم انہيں صرف ایک سامان کی حیثیت سے ہی دیکھتے ہيں۔"

                                                                                                                                                          
                                                                                                                                                       سشما، 13، گوسائی گنج

تیرہ سالہ سشما مینا کے اندر اپنا بہت کچھ دیکھتی ہے۔

"مینا جو بھی کرتی وہ وہی ہوتا ہے جسے ہم کرنے کی کوشش کرتے ہيں۔ وہ میری طرح پڑھائی کرنا چاہتی ہے،" سشما کہتی ہے، جو اپنے دوستوں کے ساتھ مینا سے سنتی ہے۔ "ہم سب مینا کی طرح ہیں۔ مینا ہر ایک کی خوشی اور غم بانٹتی ہے۔ مینا کے ساتھ کچھ بھی نا ممکن نہيں ہے۔"

گوسائی گنج میں، جو لکھنؤ سے 23 کیلو میٹر کی دوری پر واقع ہے، جہاں سشما رہتی ہے، مینا کا نصب العین گاؤں کی زندگی کی حقیقت سے دور ہو سکتا ہے۔ لڑکیوں کو اکثر پریشان کیا جاتا ہے، جسے چھیڑ کھانی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔"

وہ کہتی ہے "یہ ایک ایسی پریشانی ہے جو صرف میرے ہی گاؤں میں نہیں ہے"۔ یہ بہت ہی عام ہے کہ جب لڑکے شراب پئے ہوئے ہوتے ہيں تو وہ ہمارے ان کپڑوں کو کھینچتے ہيں جو ہم پہنے ہوئے ہوتے ہيں اور وہ ہمیں ستاتے ہيں۔"
لیکن اپنے دوستوں اور گھر والوں کے ساتھ مینا کو سننے سے گاؤں کے نظریے کو بدلنے اور گاؤں والوں میں مزید سماجی بیداری لانے میں مدد ملی ہے۔

سشما اپنے جھالر کو کالے فیتے سے بٹتے ہوئے کہتی ہے "وہ ہر شخص کی مدد کرتی ہے اور وہ اس کے گاؤں کے لئے کام کرتی ہے – یہ وہی ہے جو میں نے اس سے سیکھا ہے۔" "میرے والدین کے نظریے میں بدلاؤ آ گیا ہے۔ در حقیقت وہ نہيں چاہتے تھے کہ میں اسکول پڑھائی کرنے جاؤں۔ اب وہ چاہتے ہيں کہ میں اسکول جاؤں۔ مینا نے والدین کو اس بات پر اکسایا ہے کہ وہ اسکول جانے کے بارے میں سوچیں۔"

سشما دھیرے دھیرے انجنیئر بننا چاہتی ہے۔

"اب لڑکیوں سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں بہت کچھ کریں گی۔ اس سے میرا اعتماد بحال ہوتا ہے" اس کا کہنا ہے۔ "بس میں کچھ بننا چاہتی ہوں۔ تعلیم ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے میں اپنی زندگی میں کچھ کر سکتی ہوں۔"

                                                                                                                                                      ریشما، 12، گوسائی گنج

ریشما کا ماننا ہے کہ مینا جو سیکھاتی ہے اس میں سب سے اہم بات لڑکیوں کی تعلیم کی اہمیت ہے۔

"سب سے اہم چیز والدین کو سمجھانا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اسکول بھیجيں،"ایسا 12 سالہ ریشما کا کہنا ہے جو اپنی لمبی آستین اور گہرے رنگ والی پلیٹیں ڈالی ہوئی اسکول کی یونیفارم میں ہے۔ " لڑکے اور لڑکیاں دونوں کو اسکول جانے اور پڑھائی کرنے کی ضرورت ہے اور یہی چیز ان کی زندگی کو بدل سکتی ہے۔"

وہ کہتی ہے کہ بہت سے نو جوان لوگوں نے کام کرنے کے لئے اسکول جانا چھوڑ دیا ہے۔ 12 یا 13 سال کے نو جوان لڑکے اینٹ کی بھٹیوں میں مزدوری کرتے ہيں۔ لڑکیاں کھیتوں میں کام کرتی ہیں یا گھر کے اندر گھریلو کام کاج میں وقت گزار دیتی ہیں۔ مینا گھر والوں کو سمجھانے میں مدد کرتی ہے کہ اس کے متبادل ہیں۔

ریشما کہتی ہے "وہ مینا کی وجہ سے واپس اسکول آ رہی ہیں۔" "مینا کا کہنا ہے کہ اگر آپ کسی لڑکی کو اسکول لے جاتے ہیں تو وہ اپنے گھر والوں کے لئے معاون ہوگی اور ایسے گھر والوں کے لئے بھی جہاں اس کی شادی ہوگی۔ جب مینا ریڈیو پر اس بارے میں بات کرتی ہے تو ہم اس کے بارے میں اپنے پڑوس میں بات کرتے ہيں۔"

مینا صفائی ستھرائی اور حفظان صحت کے علم کی اہمیت پر بھی زور ڈالتی ہے۔ "میرا گاؤں بہت گندا رہتا تھا۔ اس لئے میں اپنی پڑوسیوں سے کہتی تھی کہ اگر آپ اسے صاف نہيں رکھیں گے تو یہاں بہت ساری بیماریاں پھیل جائيں گی۔"

ریشما کو امید ہے کہ وہ ایک دن وکیل بن جائے گی۔ وہ وضاحت کے ساتھ بتاتی ہے کہ "جب غریب لوگ کورٹ میں مقدمات لڑنے جاتے ہيں تو وہ اسے برداشت نہيں کر پاتے ہيں۔" "میں مفت میں مقدمات لڑنے میں مدد کرنا چاہتی ہوں۔"

ریشما اپنی بیٹیوں کو بھی ایک دن اسکول بھیجے گی۔

ریشما مسکراتے ہوئے کہتی ہے کہ "لڑکیوں کو اسکول بھیجنے کی روایت نہيں ہے۔" "میری بیٹی کو دینے کے لئے اہم ترین تحفہ تعلیم کا تحفہ ہے، اور میں اپنے بچوں کو اس پر ابھاروں گی کہ وہ جو بھی بننا چاہتے ہيں بنیں۔"
 

 

 

For every child
Health, Education, Equality, Protection
ADVANCE HUMANITY